Legal Procedure of Divorce in Pakistan/ Talaq Denay Ka Qanooni Tareeka

Legal Procedure of Divorce in Pakistan/ Talaq Denay Ka Qanooni Tareeka

in this video we shall discuss the legal procedure of divorce in Pakistan under the family law ordinance 1961. Talaq denay ka sahee qanooni taeeka kia hi. what punishment can be given if the legal procedure of law not adopted by the person.

Legal Knowledge For All is a leading law providing knowledge YouTube channel. we provide basic knowledge of law.

📞 For more info about the any legal issue, call us: +92-3336482141, +92-3027317171

41 Comments

  1. Ge me ya puchna cha rhi hn mari shadi 31 march ko hoi h aur me dosri bv hn shuhr ki 5 din pehly mare shuhr ne subah 6 baji muje cal ki aur wo fon pe device dana cha rha ta me ne cal bnd ki phr voice kia wo sony bager me ny delet ki h mari nika kanoni h to kya mari divec hogai h

  2. Court se lee gae khula durast nahi ye khilaf e shariat hai phela nikah qaim rahay ga dunavi law ko shariat pe bartari nahi jis se nikah hai wohi divorce dey ga

  3. A o A.. Ek talak dy ke raju kiya tha 2 month ho gy hain ..
    Kujj halt asy ho gye hain phr talk deni hai kitni deni ho gi ab .. 2 ya 3

  4. محترم۔الگ الگ طہر میں طلاق دینے کا طریقہ بتایا گیا ھے۔لیکن ایک مجلس میں تین طلاق دینے۔پرحلالہ نہیں۔رجوع ھے۔قرآن کریم اور احادیث مبارکہ صلی اللہ علیہ وسلم میں وضاحت موجودھے۔سورۃالبقرہ۔کی آیات۔228 میں ثلاثتہ قروء۔کا تزکرہ ھے۔ترجمہ۔اورطلاق والی عورتیں انتظار میں رکھیں خود اپنی جانوں کو تین۔قروء (طہروحیض۔تک۔اور انکے لئے حلال نہیں کہ چھپائیں جو پیدا کیا اللہ تعالیٰ نے ان کے پیٹ میں اگر وہ ایمان رکھتی ہیں اللہ پراور آخرت کے دن پر اور انکے خاوند حق رکھتے ہیں انکے لوٹانے کا اس مدت میں بشرطیکہ صلح کرنا چاہیں اور عورتوں کا بھی حق ھے جیسا کہ مردوں کا ان پر معروف طریقے سے اور مردوں کا ان پر ایک درجہ حاصل ھے۔آخر۔تک۔ اللہ تعالٰی۔حکم دےرہا ھے کہ ان کے خاوند حق رکھتے ہیں انکے لوٹانے کا۔اور عورتوں کوبھی۔حق دیا۔اپنے خاوند سےرجوع۔کاصلح کی
    شرط۔پرعدت کےاندر۔اور عورتوں کی عدت تین حیض یا۔تین ماہ ھوتی ھے۔آپ حضرات۔طلاق مغلظہ کا فتویٰ دیتے ھیں۔اور تلقین کرتےھیں کہ جب تک حلالہ۔نہ ھو گا تو پہلے والے شوھرکے لئے۔حلال۔نہ ھوگی۔زرا سوچیں۔اور 229 میں۔طلاق دو مرتبہ ھے جب صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نےپوچھا۔اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کریم میں تیسری طلاق کہاں ھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےیہ نہیں فرمایا۔فان طلقھا۔تیسری طلاق ھےبلکہ فرمایا۔اوتسریح باحسان تیسری طلاق ہے۔معروف طریقے سے رجوع یا احسان کے ساتھ رخصت کرنا ھےپھر۔فرمایا۔تمھارے لیےحلال نہیں جوکچھ بھی ان کو دیا ھےاس میں سے واپس لے لو مگر دونوں یہ خوف رکھتےھوں کہ اللہ کی حدود پر قائم نہ رہ سکیں گے اور فیصلہ کر نے والےبھی یہ ھی خوف رکھتے ھوں تو بیوی کی طرف سے وہ چیز فدیہ کرنے پر اور شوہر کی طرف سے وہ چیز لینے پر کوئی حرج نہیں یہ اللہ کی حدودھیں۔ان سے تجاوز نہ کرو۔آخرتک۔آیات 230 میں ۔پس اگر اس نےاسکو طلاق دیدی۔تو اسکے لئےحلال نہیں اسکے بعد جب تک کہ وہ نکاح نہ کرے کسی اور سے پھر اگر وہ طلاق دیدے تو دونوں پر کوئی گناہ نہیں اگر باہم مل جائیں اگر ان کو گمان ھو کہ اللہ کی حدود کو قائم رکھ سکیں گے اور یہ اللہ کی حدود ھیں۔جو واضح کرتا ھے اس قوم کے لئےجو سمجھ رکھتے ہیں۔صرف اس آیات کو مقدمہ بناکر حلالہ کا فتویٰ دیا جاتاھے۔230۔ آیات میں طلاق کے بعد ایک مخصوص صورتحال کے پیشِ نظر عورت کی دوسری جگہ شادی لازم قراردی گی ھے۔جب میاں بیوی کے علاوہ معاشرہ بھی دونوں کی مستقل جدائی پر یہاں تک آمادہ ہو کہ عورت کی طرف سے فدیہ دینا جائز نہ ھونے کے باوجود جائز بن جائے تو پھر بھی شوھر کو طلاق کے بعد دوسری شادی پر اعتراض ھو تا ھے شوہر کے اس ضمیر کی نفی کے لئے ضروری تھا کہ ان الفاظ میں وضاحت کردی جاتی شھزادہ چارلس پر لیڈی ڈیانا کو مروانے جیسی مثالوں سے تاریخ بھری پڑی ہے۔مسلم شریف.باب الطلاق۔۔1472 میں ھے۔حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا۔عہد رسالت صلی اللہ علیہ وسلم اور عہد ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور خلافت کے ابتدائی دوسالوں تک ایک مجلس میں تین طلاقیں ایک ھی شمار ھوتی تھی.اس پر اجماع صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم۔ھے۔حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی کے دور میں جب طلاق کی شرح زیادہ ھو نے لگی اور لوگ طلاق دیتےاوررجوع کرتےتو حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا اگر کوئ شخص تین طلاق ایک ساتھ دیگا تو میں ان کے درمیان علیحدگی اختیار کر وادونگا۔جب تنازعہ کی صورت اختیار کرجائےتو حاکم وقت پر ضروری ھوتا ھے کہ فریقین میں تفریق کردی جائے۔کیونکہ قرآن کریم میں صلح کی شرط پر رجوع کی گنجائش موجود ھے۔اگر دونوں میں سے ایک راضی نہ ھو تو رجوع نہیں۔ھوسکتاھےیہ فیصلہ عین قرآن کریم۔کے مطابق تھا۔بعد والے حضرات نے اس بات کو غلط سمجھا۔اور بات حلالہ تک آپہنچی۔اورحضرت علی کرم اللہ وجہ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ۔عنہ۔حضرت عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کایہ مسلک بیان کیا ھے۔کہ طلاق کے پیچھے طلاق واقع نہیں ہوتی ھے۔کتاب کا نام ۔ایک مجلس کی تین طلاقیں اور اسکا شرعی۔حل۔صفحہ۔63۔حافظ صلاح الدین یوسف۔حفظہ اللہ.مشیر وفاقی شرعی عدالت حکومت پاکستان۔بریلوی۔مکتب کےمشیر۔وفاقی شرعی عدالت حکومت پاکستان مولانا پیر کرم شاہ الازہری رحمۃ اللہ بھی ایک مجلس کی تین طلاق کے قائل نہیں تھے۔عبداللہ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نےجب اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوجب پتالگا۔تو عبداللہ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر غضبناک ھوئے اور سمجھایا کہ پہلے طہر میں رکھ لو یہاں تک کہ حیض آئےپہر دوسرے طہر میں رکھ لو۔کہ حیض آئے۔پھر تیسرے طہر میں رجوع کرلو۔یاہاتھ لگانے سے پہلےچھوڑدو۔بخاری شریف۔کتاب الاحکام۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےالگ الگ طہر میں طلاق دینے کا طریقہ سکھایا۔حضرت رکانہ بن عبد یزید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی بیوی کو ایک مجلس میں تین طلاق دے دیں بعد میں بہت غمگین ھوئے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا۔تم نے اسے کس طرح دی۔انھوں نے کہا تین مرتبہ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ تین طلاقیں ایک ساتھ دی تھیں۔انھوں نے کہا۔ہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر یہ ایک ھی۔طلاق ھےاگر تم چاھوتو رجوع کرلو۔حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتےھیں۔کہ حضرت رکانہ نے اپنی بیوی سے رجوع کر لیا۔مسنداحمد۔123/4۔امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کےاستاد۔تابعی حضرت حماد۔ اورمحدث حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ۔عنھم۔بھی ایک مجلس میں تین طلاق کے قائل نہیں تھے۔رجوع کے قائل ھیں۔جبکہ آیات 231۔اور جب تم نے عورتوں کو طلاق دی پھر پہنچیں وہ اپنی عدت کو تو معروف۔طریقےروکو یا۔معروف طریقے سے چھوڑو۔232 میں اورجب تم نے عورتوں کو طلاق دی پھر پورا کرچکی اپنی عدت کوتو نہ روکو انکوکہ ازواجی تعلق قائم کریں اپنے خاوندوں سے جب راضی ھوں آپس میں معروف طریقےسے۔سورۃالطلاق ۔آیات۔ا میں اے نبی جب تم عورتوں کوطلاق دو تو انکو عدت کے لئے طلاق دواور شمار کرو عدت کو۔آیات 2 میں ترجمہ اورجب پہنچیں وہ اپنی عدت کو تو معروف طریقے سے رکھ لو یا معروف طریقے سے الگ کردو۔سورۃالنساء۔آیات 35 میں بھی صلح کا تزکرہ ملتاھے۔ سورۃالبقرہ.آیات۔228.229۔231.232.اورسورۃالطلاق میں آیات 1.2. میں اللہ تعالٰی موقع فراہم کرتا ھے۔صلح کی شرط پر عدت کے اندر اور عدت کے دوران اور عدت کے اختتام پر۔بھی۔رجوع ھو سکتا ھے مشیروفاقی شرعی عدالت حکومت پاکستان۔مفتی حسام اللہ شریفی۔مفتی فلک شیر۔ان حضرات نے بھی تین طلاق سے رجوع کیاھے۔مزید۔یوٹوپ zarbehaq tv پر ریسرچ کرسکتے ھیں۔چیف ایڈیٹر۔حضرت سید عتیق الرحمن گیلانی مدظلہ العالی

  5. Sir mery husband ny mjhy 3 talaq di Hain ak sath lakin koi notes ni byjwaya kia talaq ho gai hai.or please guide kr dyn mjhy kia krna chahy

  6. Sir mey husband ny mjy divorce di by wtsap us k bd mjhse mil liya k Teri meri sulha h phr union walon se milap kr k certificate bhi ly liya mjy koi notice ni aya ,union waly mjy khty ryy k apki divorce ka process nu chal raha h lkn achnk certificate jari kr dya q

  7. Assalamualiekum sir..
    Agr talaq k haq pr bivi walon ki traf sy peson ya gold ki shart lga rakhi ho.. jesy k apko 10 tola gold ada krna pry ga divorce k bad .. kia ye raqm sohar ko ada krni pary ge .. or bivi is wajah sy ghr basa na rahi ho ? Pls answer.. thanks

  8. Lrky ny Apni mrzi sy 3 written divorce during pregnncy bhji apny or gawh k sign k sth or Force kr k lrki or usky gawh ka b sign Krwya notice my sb kch maaf kwya.ab kya UC wly 3 divrce Dno k sign or mutual lkha dkh kr bulwain gy nhi? Lrki apna point of view ksy btai UC wln ko paprs tu lrka dy ga jo marzi lkh ly applcation my jo divrce papr k sth jti h

  9. agar husband wife ko maarta hai too os pa kiya action liya ja sakta police k zariye…..kiya FIR kar PPC ki dafaat lag sakti ya police station ma koi application day k complain ki ja sakti?????????????

  10. Sir koi Ghair mazab mard apni biwi ko talak dena chahta he magar aurat na mane to koi rai. 3 bache b hen

  11. nikhanama column 13 14 ma too likha hai k 50 hazaar meher maujjal endal talab lakin15 jo hota os ma mere sister k nikhanama ma kul meher maujjal likha hua hai……….15 column fill hai…..yani 15 ma 2 line hote 1) aaya meher ka kuch hissa shadi ma ……..yani is line ma kul meher maujjal likha hu hai baqi 2) ada kiya gaya agar kiya too kis qadar…..yh wala line ma kuch ni likha hua bs 1 walay ma kul meher maujjal likha hua……is se koi saabit hota k mere sister ko maujjal meher ada kar diya gaya???????

  12. main 3 maheny sy apny husband sy dur hon or wo mujhy or bachon ko kharcha b nahi dy rahy h or ab unho ny mujhy talak k papers bhyjway h Jin py hum dono ny ab tak Singh nahi kiye or agar humari talak hoti b h to Kya phir b mujhy (90 din ki( iddat) guzarni padry gi?jab gy talak k paper any sy pehly hi him husband wife sath nahi ryhty thy.

  13. Agr koi shakhs 3 talaq wala notice bej de yani talaqay salasa wala notice bej day tu pir qanoon k mutabik talaq ho jati hai?

  14. نہیں تم سے کوئی شکایت بس اتنی سی التجا ہے
    جو حال کر گۓ ہو ہمارا کبھی دیکھنے مت آنا🥺

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*